کوئٹہ اور ہزاره نوجوانوں کا مستقبل

ہزاره نوجوانوں کا مستقبل تباہی سے دو چار

تحریر.ابراہیمو ہزاره

 اپریل 2016ء کو چار ہزارہ نوجوان اپنے وکیل کے ہمراه بلوچستان ہائیکورٹ میں اپنے ایک مقدمہ کی پیروی کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے

 ہوا کچھ یوں تھا کہ ان امیدواروں نے سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے ہونے والے ٹیسٹ انٹرویو میں میرٹ لسٹ پرجگہ بنایی تھی مگر بدقسمتی سے وہ ملازمت لینے میں ناکام رہے تھے۔اس کیس میں ناانصافی کسی ایک کے ساتھ نہیں بلکہ چاروں سے ہوئی تھی جس کی سب سے بڑی وجہ صوبہ میں ہونے والی سیاسی اقرباپروری, بااثر افراد کی سفارش اور رشوت کے بازارکا گرم ہونا ہے۔اسی وجہ سےقابل اور با صلاحیت افراد کو نظر انداز کرکے اپنے من پسند افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔
ایسے میں نوجوانوں میں احساس محرومی مزید بڑھتی جارہی ہے کیونکہ مخدوش حالات کے پیش نظر خاص کر ہزاره قوم سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان اپنی ڈگریوں کے ساتھ روزگار کی تلاش میں روز سرکاری اداروں کے چکر کاٹ رہےہیں تاکہ انہیں کویی باعزت روزگار ملےمگر گزشتہ کیی ادوار سے انہیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اس سلسلے میں آج تک کسی نے اسمبلی میں آواز نہیں آٹھائی ہے

یوں تو دہشت گردی کی ناسور سے پورا پاکستان متاثر ہو رہا ہےلیکن پچھلے ستره اٹھاره سالوں سے جس تسلسل کے ساتھ کوئٹہ میں رہنے والی ہزاره قوم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان پے در پے رونماء ہونے والے مذہبی دہشتگردی کے واقعات نے کسی کو نہیں بخشا۔ ایسے میں تاجر سے لے چوکیدار تک اور نوکری پر جانے والے ہر ملازم کو یہاں تک کہ 2013 میں آئی ٹی یونیورسٹی کی بس کوبھی نشانہ بنایا گیا جس میں کئی ہونہار طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ ماہر پروفیسر بھی ان سانحات کا شکار ہوۓ_کچھ سال پہلے تک اس قوم کی ۔۔شرح خواندگی سو فیصد تھی مگر اب دگرگوں حالات کی وجہ سے تعلیمی درس گاہوں میں یہ شرح کافی کم ہو چکی ہے

ہزاره قوم پچھلے کئی عشروں سے یہاں کوئٹہ میں آباد ایک پر امن قوم ہے لیکن بدقسمتی سے، بلوچستان خصوصا کویٹہ میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کو باہر سے لا کر اسے یہاں پنپنے اور نشوونماکرنے کے لیے تمام تر سہولیات مہیاء کی جاتی رہی، جس نے اس نہتّی قوم کے سینکڑوں لوگوں کی نہ صرف لی بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، انکی تمام تر شہری آذادیاں سلب کر کے، حفاظت کے نام پر، انہیں دو کلو میٹر کےاحاطے تک محدود کیا گیا۔ ایسے ناروا اقدامات سے نا صرف ان کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے بلکہ مقتدر حلقوں کی حمایت سے فرقہ ورانہ دہشت گردی میں ملّوث گروہوں کو بھی شے مل رہی ہے۔ ان حالات میں ان کا مشکلات بڑھنا ایک قدرتی امر ہے۔

یہاں یہ کہنا بے محل نا ہو گا کہ پاکستان عالمی انسانی حقوق کے مسوّدے پر دستخط کر کے اسکی توثیق کر چکا ہے لہذا کسی خاص گروہ یا اقلیت سے تعلّق رکھنے والوں کی شہری آذادیاں سلب کرنا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے مگر چونکہ انسانی حقوق سے وابسطہ تنظمیں اس معاملے سے صرف نظر کی رہی ہے لہذا ریاست بھی اپنے آپکو ان معاہدوں کی پاسداری سے مبرّا سمجھتی ہے۔ کہنے کو تو بلوچستان ایک غریب صوبہ ہے مگر اس غریب صوبہ کے عوامی نمایندوں نے حال ہی میں ہونےوالے غیر ملکی دوروں پرسرکاری خزانے سے کروڈوں روپے اپنی سیر وتفریح پر خرچ کیے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تعلیم اورصحت وغیرہ کےشعبوں میں بہتری کا دعوا کرنے والی صوبای حکومت، ان عوامی نمائندوں کے غیر ملکی دوروں کے اخراجات انکی مراعات سے منہاء کرتی اور لوگوں سے داد تحسین وصول کرتی۔ مگر چونکہ احتساب اور گڈ گورننس کی کویی رمق دکھایی نہیں دیتی لہذا سرکاری خزانے کا اس طرح بے دریغ استعمال کویی نیی بات نہیں۔ ان حالات میں تو ہونا یہ چاہیے تھا که کم از کم شہداء کے خاندان سے ایک فرد کو اسکی تعلیمی قابلیت کے مطابق کویی سرکاری نوکری مل جاتی تاکہ انہیں دو وقت کی روٹی تو میّسر ہوتی مگر بدقسمتی سے صوبائی حکومت نے ان معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور نہ ہی اس قوم کے منتخب نمائیندہ نے اس چیز کا کبھی نوٹس لیا۔

علاقہ کےووٹروں کا اپنے نمائندے سے یہ شکایت بھی ہے کہ جب بھی وہ اپنے نمایندہ سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کبھی یورپ میں تو کبھی آسٹرلیا میں ہوتا ہے اورانکی یہ شکایت بجا بھی ہے۔ علاقہ کے منتخب نمایندہ نے کے پاس ایک اور اعزاز بھی ہے جو 45 لاکھ کی اسکالرشپ کی مد میں، ضرورت مندوں کی بجاۓ، چند ایسے طلبا و طلبات میں تقسیم کیے گئے جو پہلے سے بہترین سکولوں میں پڑھ ر ہےہیں۔

أمید ہے کہ2017 میں حکومت بلوچستان کی طرف سے جو نیی اسامیاں پر کرنے کا اعلان کیا گیاہے ان کو شفاف طریقے سے پر کیا جاے گا اور ان چارنوجوانوں کے ساتھ بھی انصاف کرکے انہیں انکا حق دلایا جاے گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو ان چاروں کے ساتھ ساتھ أن سینکڑوں نوجوانوں کا مستقبل بھی تباہی سے دوچار ہو سکتا ہیں جو کسی بھی سفارش کے بغیر قابلییت کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

     کویٹہ میں ھزارہ معاشرہ کو درپیش نیے چیلنجز (دوسرااور آخری حصّہ)

Leave a Reply