ذاتی شہرت کی خاطر کچھ بھی جایز ہے

0

دن گزرنے کے ساتھ وہاں موجود دوسرے لوگوں سے بھی مل جل ہو گیا جو علاج معالجے کی غرض سے کوئٹہ,افغانستان اور آسٹریلیا سے کراچی آۓ ہوۓ تھے_اور سب اپنے اپنے مریضوں کی تمار داری میں معروف تھے صبح کو سارے نکلتے اور رات کو واپس آجاتے تھے_میں اپنی والده کو علاج کی غرض سے کراچی لے گیا تھا اور اسی رسٹ ہاوس کے ایک کمرے میں مقیم تھا جہاں یہ سبے لوگ مختلف کمروں میں رہایش پزیر تھے_

\کبھی کبھی آپس میں مشورے کے لیے ملاقات ہوتی رہتی تھی ایک فیملی جنکا تعلق افغانستان سے تھا بڑا بیٹا ریڈ کی ہڈی میں تکلیف کے باعث مستقل ویل چیر پر تھا_یہاں کے زبان سے بھی نابلد اور ہسپتال میں بھی ان لوگوں سے شناختی کارڈ مانگا گیا تھا_صرف ترجمانی کےلیے کوئی جوان دن کا ہزار روپے ان سے وصول کرتا تھا_اب مشکل یہ تھا کہ وہاں کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ سب انپے مریضوں کے ساتھ کراچی کے مختلف ہسپتالوں کی طرف نکل جاتے_

ایک اور فیملی جو کوئٹہ سے آیا تھا کسی حادثے میں ان کا بیٹا زخمی ہوا تھا ساتھ میں ان کی والده اور بہن آئی تھی ان کےبقول ان کا صرف ایک ہی بیٹا ہے_ کئی سال پہلے والد کا انتقال ہوچکا ہے اور یہ کرایے کے گھر میں رہایش پزیر ہے_ان کے پاس تو اپنے بیٹے کے علاج کے لیے پیسے بھی نہیں تھے_ یہ سب دیکھ کر کچھ لمحوں کےلیے میرے دل میں بھی یہ خیال آیا تھا کہ کیوں نہ موقع سے فائده أٹھاتے ہوۓ ان کے ساتھ امداد کے نام پر گروپ فوٹو سیشن اور ساتھ ویڈیو بھی بنائی جائے_ جیسے فیس بک کے مختلف پیجیز پر پوسٹ کرکے مجھے بہت ساری لائیک اور ماشاالله ماشالله کے کمینٹس ملے گے یوں میں راتوں رات آسمان کی بلندیوں پر پہنچ جاونگا_ انہی سوچوں میں گم تھا کہ والده نے آواز لگائی گاڈی آچکی ہے جلدی کرو آجاوں_

واپسی پر گاڈی میں مجھے اس بات کا احساس ہوگیا کہ میں نے تو سرے سے أس فیملی کے بارے سوچھا ہی نہیں ہے_جب وه واپس اپنے گھر لوٹ آئیں گے تو ہزاروں نگاہیں أن کا پیچھا کریں گےاور ہر کوئی یہی سوال پوچھے گا کہ آپ لوگوں کی تصویریں فیس بک پر سب نے دیکھ لیا ہے کتنا پیسہ ملا ہے؟ یوں پوری زندگی ان لوگوں کو کچھ روپوں کی خاطر یہی طعنہ ملتی کہ جناب آپ تو دوسروں کے پیسوں پر پل رہے ہیں_

دیکھا جاۓ تو کافی سالوں سے ہمارے ہاں شہیدوں اور غریبوں کو صرف اپنے جیبوں اور ذاتی شہرت کےلیے بیچا گیا ہیں خدمت اور امداد کے نام پر کئ دکانیں کھل چکی ہیں کبھی اجتماعی شادی کے نام پر اپنےہی غریب بھائیوں کی تزلیل کرتے ہیں تو کبھی پوری فیملی کو پروگراموں میں بلا کر یہ کام سر انجام دیتے ہیں_یا کچھ پیسوں اور کتابوں کی خاطر کئی دن تک اپنے دفتروں میں نہ صرف بیٹھاتے ہیں بلکہ اگلے روز پوری البم بنا کر دنیا کو بتانے کی کوشیش کرتےہیں کہ صاحبان کتنے اعظیم لوگ ہیں_

اس دنیا میں آج بھی ایسے خدا ترس لوگ موجود ہے جو صرف الله کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں اس طریقے سے امداد کرتے ہیں کہ امداد لینے والے کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کون مدد کررہا ہے_اور ہمارے دین میں بھی یہی کہاں گیا ہے کہ ریاکاری ایک مذموم فعل ہے جس سے انسان انپی مشہوری کے لیے یہ کام کرتا ہے تاکہ لوگ ان کے کام کو دیکھے اور تعریف کریں_ چنانچہ ہمیں اپنے غیریب بھائیوں کی ضرورتوں خیال ضرور رکھنا چاہیے مگر اس طرح سے پوری دنیا کو دیکھا کر کچھ روپوں کی خاطر ان کی عزت نفس مجروح نہ کریں_

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.